بنگلورو، 2؍نومبر(ایس او نیوز) سینئر کانگریس لیڈر ورکن اسمبلی جناب روشن بیگ کے بیان سے اتفاق کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر سی ایم ابراہیم نے بھی کہا ہے کہ ملک میں رام مندر کی تعمیر کی مسلمانوں نے کبھی مخالفت نہیں کی ۔
ہبلی میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بی جے پی نہیں چاہتی کہ ایودھیا مسئلہ حل ہوجائے تاکہ ہمیشہ اس مسئلے کو زندہ رکھ کر اپنی سیاسی روٹیاں سینک سکے۔
انہوں نے کہاکہ ایودھیا کے نام پر بی جے پی شروع سے ہی ملک کے عوام کوگمراہ کرتے آرہی ہے، اس بار جبکہ مرکزی حکومت مہنگائی جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کے مضر اثرات کے سبب عوام کی نظروں میں معتوب ہوچکی ہے ، اسی لئے اس بات کی کوشاں ہے کہ رام مندر کے نام پر دوبارہ ایک طبقے کے جذبات کو مشتعل کیا جائے اور اپنا سیاسی الو سیدھا کرلے۔ ابراہیم نے کہا کہ ریاست میں بی جے پی نے ہبلی عیدگاہ میدان کے تنازعے کو اچھال کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن انتہائی دانشمندی سے اس مسئلے کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیاگیا ، اب ایودھیا معاملہ سامنے رکھ کر گندی سیاست کررہی ہے۔
سی ایم ابراہیم نے کہاکہ مندر مسجد کی تعمیر کرنا کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے، اور کسی بھی مذہب میں اس کام کو اس قدر بلند مقام نہیں ہے جتنا بھوکوں کے پیٹ بھرنے کو ہے۔انہوں نے کہا کہ بھوکوں کو کھانا اور بے گھروں کو آسرا دینا کسی بھی مذہب کا اصل پیغام ہے۔ لیکن اقتدار پر رہنے کے باوجود بھی بی جے پی جو ہندو توا کی ٹھیکے داری کا دعویٰ کرتی ہے ان بنیادی فرائض پر کبھی توجہ نہیں دی۔ ایک طرف گؤ رکشا کے نام پر اتر پردیش میں گائے کی پوجا کی جاتی ہے تو دوسری طرف گوا میں یہی بی جے پی کے لوگ گائے کے گوشت کی فروخت کی وکالت میں میدان میں اترے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک بھر میں جتنے بھی مذبح خانے ہیں ان کا انتظامیہ چلانے والوں میں بی جے پی کے کارندوں کی کثرت ہے۔ یہی لوگ اپنا دوسرا رخ گؤ رکشک کے طور پر پیش کررہے ہیں اور گائے کو بچانے کے نام پر لمبی لمبی تقریریں کرتے ہیں۔ ملک کے عوام پر ان کا سچ ظاہر ہوچکا ہے۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں عوام ضرور سبق سکھائیں گے۔
ریاست کے پانچ حلقوں میں ضمنی انتخابات کے متعلق سی ایم ابراہیم نے کہاکہ پانچوں حلقوں میں کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کی کامیابی طے ہے۔ اس کے ساتھ ہی 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بھی کانگریس جے ڈی ایس اتحاد تمام 28 سیٹوں پر کامیاب ہوجائے گا۔ رام نگرم اسمبلی حلقے میں بی جے پی امیدوار کے مقابلے سے ہٹ جانے کے بارے میں سی ایم ابراہیم نے کہاکہ اس میں کانگریس کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔
دراصل بی جے پی نے کانگریس کے ایک کارکن چندر شیکھر کو نشانہ بناکر میدان میں اتارا تھا، لیکن ٹکٹ دینے کے بعد بی جے پی قائدین نے چندر شیکھر کا ہاتھ چھوڑ دیا اور ایک دن کے لئے بھی انتخابی مہم چلانے نہیں آئے ، جس سے نالاں چندر شیکھر نے بی جے پی چھوڑ کر کانگریس واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ مسلم خواتین کے تئیں وزیراعظم نریندر مودی کی فکر مندی اور انہیں انصاف دلانے کے لئے تین طلاق آر ڈی ننس لانے کے اقدام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سی ایم ابراہیم نے کہاکہ مسلم خواتین کے تئیں مودی کی فکر مندی خوش آئندہ ہے، کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ ملک بھر کی مسلم خواتین کے ساتھ اپنے گھر کی خاتون کی بھی فکر کرتے۔